سرسوں کا پھول اور ساگ

 





سرسوں کے پھول اور ساگ


                  محمد جیلانی نعیمی 


        سرسوں کے پھول سرما کے بے رنگ موسم میں رنگ بھرتے ہیں۔ موسم سرما خشک، بے کیف اور بے برگ و ثمر موسم ہے۔اس موسم میں ہریالی بہت کم رہ جاتی ہے مگر یہی اداس اور بے رنگ موسم ہم میں سے اکثر لوگ پسند بھی کرتے ہیں۔اردو کے بے شمار شعراء نے اپنے کلام میں سرد موسم اور خصوصاً دسمبر کو ہجر کا موسم قرار دیا ہے۔پیلا رنگ ہجر کی نمائندگی کرتا ہے اور سرسوں کے پیلے پھول بھی پہلی بار اسی موسم میں کھلتے ہیں۔ 


         اس موسم میں بِہار کے وسیع و عریض رقبے پر سرسوں کے پھولوں سے سجے بے شمار کھیت دکھائی دیتے ہیں ۔سرسوں کے یہ دلکش پھول بے کیف رنگوں کے اس موسم کو بھی خوش رنگ بنا دیتے ہیں۔ موسم سرما کے خاص مہینے دسمبر کا آغاز ہوتے ہی کھیتوں میں  سرسوں کے پھول کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ چند ہی دن میں یہاں کے کھیت سرسوں کے پیلے پھولوں سے لدے پھندے دکھائی دیتے ہیں۔ وسیع و عریض رقبے پر کاشت ہونے والی سرسوں کی فصل کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی مصور نے زمین پر پیلے رنگ کا برش پھیر دیا ہے۔ سبز اور پیلے رنگوں کے امتزاج سے بنی یہ قدرتی مصوری ہر ایک کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ سرسوں کے پھولوں سے اٹھنے والی دلفریب خوشبو اس سارے منظر کو اور بھی مسحور کن بناتی ہے۔ ان کھیتوں کے آس پاس گھومتے آپ خود کو کسی اور ہی جہان میں محسوس کرتے ہیں۔

    جنوری اور فروری کے مہینے ان  پھولوں کے عروج کا موسم  ہوتا ہے۔ فروری میں  بہار کی آمد پر یہ  پھول دھیرے دھیرے مرجھانا شروع ہو جاتے ہیں۔بہار کی آمد گویا سرسوں کی پیلے اور سبز رنگ کے سحر کو توڑ دیتی ہے۔موسم بہار میں سرسوں کی فصل پک کر تیار ہو جاتی ہے اور سرسوں کی جگہ گندم کے سرسبز خوشے اپنی چھب دکھلانے لگتے ہیں۔سرسوں یوں تو تیل اور مویشیوں کے چارے کے لیے کاشت ہونے والی فصل ہے مگر اس کا ساگ ہندوستان میں بے حد مقبول ہے۔ سردیوں کی دھوپ میں کھیت کی باندھ پر بیٹھ کر سرسوں کے کھلے پھولوں کا منظر دیکھنا یقیناً دنیا کے دلکش ترین مناظر میں سے ایک ہوتا ہے۔سرسوں کے پھولوں سے اٹھنے والی خوشبو بھی نرالی ہوتی ہے اور اس مسحور کن خوشبو سے جسم و جاں کو راحت ملتی ہے۔

   سرسوں کی فصل نہ صرف ہمارے ماحول کا منظر دلکش بناتی ہے بلکہ یہ ہماری خوراک کی ضرورت کو بھی پورا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ سرسوں کا ساگ تو ہر ایک کا من بھاتا ہی ہے مگر اس کا تیل بھی انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے ۔سرسوں کی زیادہ سے زیادہ رقبے پر کاشت ہندوستان کو خوردنی تیل کی پیداوار میں بھی خود کفیل کر سکتی ہے

   سرسوں کا ساگ ہندوستان کی مقبول ترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔ہندوستان کے دیہات میں چنے کا ساگ بھی مقبول ہیں مگر سرسوں کے ساگ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔اس ساگ کی مقبولیت اس قدر ہے کہ اب اسے بطور تحفہ دوسرے ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔دنیا بھر میں جہاں جہاں ہندوستانی آباد ہیں وہاں موسم سرما کی یہ مقبول سوغات ضرور پہنچتی ہے۔سرسوں کا ساگ دیار غیر میں مقیم ہندوستانیوں کو اپنے وطن کی یاد دلاتا ہے۔ہندوستان آنے والے غیر ملکی سیاح بھی اس کے مداح بن کر جاتے ہیں۔

   سرسوں ایک تیل دار فصل ہے اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں یہ صدیوں سے کاشت کی جاتی ہے۔ سرسوں کا چارہ مویشیوں کی مرغوب غذا ہے۔ سرسوں کی فصل سے نہ صرف خوردنی تیل حاصل ہوتا ہے بلکہ یہ مختلف امراض سے شفا بھی دیتا ہے۔سرسوں کے پیلے پھول موسم سرما میں بہار کا سا سماں باندھ دیتے ہیں۔یہ پھول اور ان کی مہک ماحول کو تروتازہ اور معطر بناتے ہیں۔سرسوں کا ساگ عام طور پر تو دیہات میں ہی پکایا جاتا ہے مگر اب شہروں میں بھی عام دستیاب ہوتا ہے۔شہروں میں مہنگے داموں فروخت ہونے والے سرسوں کے ساگ کو دیہات میں کھیتوں سے مفت توڑا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں

جشن جمہوریہ