کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں
- کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں
📚💔
(فلسطین کے مظلوم بچوں کے نام)
تصویر میں نظر آنے والا یہ بچہ، ایک عام طالب علم نہیں،
یہ فلسطین کا بیٹا ہے — ایک ایسی سرزمین کا سپوت جو دہائیوں سے ظلم، قبضے اور بربادی کی آگ میں جل رہی ہے۔
اس کے اردگرد ہر طرف ملبہ، ٹوٹی دیواریں، بکھری اینٹیں اور تباہ شدہ عمارتیں ہیں —
لیکن وہ جو کچھ بچانے میں کامیاب ہوا، وہ تھے کتابیں۔
وہ علم جسے نہ ٹینک تباہ کر سکے، نہ بم راکھ بنا سکے،
وہ شعور جو ملبے کے نیچے سے بھی اُبھر آیا۔
یہ فلسطینی بچہ چیخ چیخ کر دنیا کو بتا رہا ہے کہ
"تم ہمارے گھر تباہ کر سکتے ہو، لیکن ہمارے خواب نہیں!"
اس بچے کے ہاتھوں میں کتابیں نہیں، بلکہ
امید، مزاحمت، غیرت، اور علم کی روشن شمعیں ہیں۔
وہ ہر قدم پر یہ اعلان کر رہا ہے کہ
"ہم قلم نہیں چھوڑیں گے، چاہے ہمارے اسکول ملبے میں دفن ہو جائیں!"
فلسطین میں تعلیم بھی مزاحمت ہے
فلسطین میں ہر کتاب، ہر قلم، ہر بچہ —
ایک خاموش سپاہی ہے جو دنیا کو ظلم کے خلاف جگا رہا ہے۔
اس بچے کا یہ عمل ہم سب کے لیے پیغام ہے:
"علم کو اپنا ہتھیار بناؤ، کتاب کو اپنی ڈھال بناؤ، اور سچ کو آواز دو!"
ہماری ذمہ داری
اگر فلسطین کے بچے ملبے سے کتابیں نکال کر علم کا دامن تھام سکتے ہیں،
تو ہمیں اپنی آزادی میں بیٹھ کر اُن کے لیے آواز اٹھانی چاہیے، دعائیں کرنی چاہیے، اور مدد کے لیے عملی قدم بڑھانا چاہیے۔
آئیے ہم سب اس پیغام کو پھیلائیں:
"فلسطین زندہ ہے... اور فلسطین کے بچے علم کی روشنی سے ظلم کی تاریکی کو شکست دیں گے!
از قلم:: محمد جیلانی نعیمی

Comments
Post a Comment