کتاب کی اہمیت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فطرت نے انسان کو سمجھانے اور سکھانے کے لیے کتاب کا ہی سہارا لیا۔ جو چیز کتاب کا حصہ بن گئی وہ صدیوں کے لیے امر ہوگئی اور جو کتاب میں نہ سما سکی وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی۔کتاب ایک ایسی دنیا ہے جس کے اندر سما جانے والے حقائق، واقعات، لوگ، تہذیبیں لاکھوں سالوں تک زندہ رہتے ہیں بلکہ اسے یوں کہنا چاہیے کہ کتاب ایک ایسی دنیا ہے جس کے باسیوں کی عمریں لاکھوں سال ہوتی ہے۔ آدم کی غلطی ہو یا حوا کی پیدائش، نمرود کی آگ ہو یا ابراہیم کا معجزہ، فرعون کا دربار ہو یا موسیٰ کا عصا، یوسف کا حُسن ہو یا زلیخا کی محبت، مصر کی خشک سالی ہو یا یوسف کی کامیاب حکمت عملی، مریم کا معجزہ ہو یا عیسٰی کی تبلیغ، حضرت محمد ﷺ کی سچائی ہو یا ابوجہل کی نفرت، ، نیز کہ دنیا کا کوئی بھی عمل ہو وہ صرف اسی وقت تک زندہ رہ سکتا ہے جب تک وہ کتاب کا حصہ رہے گا۔ جس دن وہ کتاب کا حصہ نہیں رہے گا وہ مرجائے گا اور ذہنوں سے ایسا محو ہوگا کہ جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔کتاب کی طاقت کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگالیں کہ کتاب آپ کو ہنسا سکتی ہے، رُلا سکتی ہے، مایوسی کے سمندر میں غوطے دلواسکتی ہے، مایوسی کے کالے بادلوں کو ہٹا کر روشنی کی نئی کرنیں بچھا سکتی ہے۔ یہ کتاب آپ کی زندگی بنا بھی سکتی اور بگاڑ بھی سکتی ہے۔ کتاب آپ کو سلا بھی سکتی ہے اور میٹھے خواب بھی دکھا سکتی ہے۔ آپ کو صوفی سے سائنس دان بنا سکتی ہے۔ آپ کے جذبات کی ترجمانی کرسکتی ہے۔ آپ کے احساسات کو لفظی شکل دے سکتی ہے۔ آپ کے اندر چھپے ہوئے ٹیلنٹ کو کئی گنا بڑھا بھی سکتی ہے۔کتاب وہ جام ہے جس کے اندر جھانکتے ہی آپ حال، ماضی اور مستقبل سے آشنا ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی سواری ہے جو آپ کو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں سفر کرنے کی سستی ترین سہولت فراہم کرتی ہے۔ نہ جہازوں کے ٹکٹ، نہ سیٹلائٹ کا جھنجھٹ، نہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور نہ ہی منزل پر نہ پہنچنے کی ناکامی کا خدشہ۔ سکون ہی سکون اور اطمینان ہی اطمینان۔کتاب کے جادوئی اور طلسماتی کرامات کے باوجود بھی مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی کتابوں سے محبت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ پھر جن لوگوں میں کتاب کا رجحان تھا، اس کو ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں

جشن جمہوریہ

سرسوں کا پھول اور ساگ