قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت ١٠ ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور ١٢ ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ ١٠ ذی الحج ہی ہے۔ عازمین حج مکہ مکرمہ میں یہ قربانی نہیں کرتے کیونکہ ان پر عید الاضحی کی نماز نہیں ہے وہ حج کے دیگر مناسک میں مصروف ہوتے ہیں وہ بال کٹوانے کے بعد جو قربانی کرتے ہیں وہ حج کا ’’دم شکر‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ قربانی ’’حج تمتع یا حج قران‘‘کے لوگ ادا کرتے ہیں۔ دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور ملتا ہے جسے عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ یہود کی کتاب میں کثرت سے قربانی کا ذکر ملتا ہے اور اس کے اتنے تفصیلی احکامات لکھے گئے ہیں کہ کسی اور عبادت کے اتنے احکام نہیں ملتے ۔ ان قربانیوں میں سوختی قربانی ، گناہ کی قربانی اور اﷲ کی رحمت کو متوجہ کرنے کیلئے قربانی ہے۔ عید فصح کے سات دن کی قربانی کاخاص طورپر ذکر ملتا ہے ۔ عیسائیوں کے مذہب کی تو بنیادہی قربانی پر ہے ان کے نزدیک قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔عید الاضحی کی قربانی اصل میں اس واقعہ عظیم کی یاد کو تازہ کرتی ہے جو حضرت ابراہیمؑ سے واقع ہوا یعنی خواب میںفرزند عزیز حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرتے دیکھا تو سچ مچ انہیں قربانی کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ہماری مختلف مذہبی کتب میں حضرت ابراہیمؑ کے اس خواب کا ذکرآیا ہے جو کہ قربانی سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم ؑنے یہ خواب مسلسل تین راتوں تک دیکھا تھا۔ پہلی رات یعنی آٹھ ذی الحج جسے شرعی اصطلاح میں ’’یوم الترویہ‘‘کہا جاتا ہے ۔ لغت میں تردید کے معنی ’’سیراب کرنا‘‘پانی فراہم کرنا، چونکہ لوگ اس دن اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے تھے۔ جیساکہ صحیح بخاری میں ترویہ کے معنی پانی پلانا آیاہے بعض اہل زبان نے ’’ترویہ‘‘کورویت سے لیا ہے اس لئے ’’دیکھنے کے ‘‘ معنی میں لیا ہے۔حضرت ابراہیم ؑنے بھی چونکہ خواب دیکھا تھا اس لئے دیکھنے کے معنوں میں ترویہ لیا۔ اس کی ایک ترجہیہ یہ بھی لکھی ہے کہ اس دن عازمین حج نماز ظہر کے بعد احرام باندھ کر منی کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور زادراہ کی خاطر پانی بھی ساتھ رکھتے ہیں ایک اور جگہ اس کے معنی’’ سوچ کا دن‘‘ لکھتے ہیں کیونکہ رات کے خواب کے بعد دن میں اس کے تعبیر کے بارے میں سوچا تھا اس لئے اس دن کا نام ’’یوم الترویہ‘‘ پڑ گیا۔ اس دن کا تعلق چونکہ ایام حج سے بھی ہے اس لئے مختلف کتابوں میں جو روایتیں ملتی ہیں ان سب کو اس مضمون میں یکجا کر دیا گیا ہے، اسی طرح عرضہ کو بھی معافی کے ساتھ شامل کیا ہے تاکہ قارئین کو تاریخ اور مقام سے اچھی طرح واقفیت ہو جائے۔حضرات ابراہیم ؑنے خواب دیکھا جس میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنی عزیز ترین شے ہماری راہ میں قربان کرو۔ صبح اٹھ کر آپؑ نے سوچا کہ کیا چیز قربان کی جائے کہ جس سے منشائے ایزدی پوری ہو جائے۔ آپؑ نے سوسرخ اونٹ قربان کر دیئے ۔ دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ چنانچہ آپؑ نے پھر ایسا ہی کیا۔ واضح ہوکہ حجاز کی سرزمین پر سرخ اونٹ شروع ہی سے بڑا قیمتی رہا ہے جسے صرف چند مخصوص افراد استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کی قیمت خرید سے باہر ہوتا ہے۔ اس دوسرے دن آپؑ نے جو قربانی پیش کی وہ ’’یوم عرفہ‘‘ تھا جس کے معنی ’’پہچاننے‘کے ہیں۔عر فہ نوذی الحج کا دن ہوتا ہے اسی دن تمام عازمین حج عرفات کے میدان میں آتے ہیں جو حج کارکن اعظم ہے، یہاں کی حاضری خواہ چند ساعتوں کیلئے ہی سہی ، ضروری ہے ورنہ حج نہیں ہوتا۔ اس دن عازمین حج اپنے آپ کو مجرموں کی طرح رب کائنات کے حضور پیش کر کے اپنے گناہوں کا اعتراف بر ملا کرتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے چونکہ عرفہ والی رات کو بھی یہ خواب دیکھا تھا اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے اپنے پہلے دن والے خواب کو پہچان لیا تھا کہ یہ وہی خواب ہے جو کل دیکھا تھا۔ اسی دن فجر کی نماز سے تیر ھویں کی عصر تک تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد خواتین و خضرات پر چاہے وہ مقیم ہو یا مسافر ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔تیسری رات آپؑ کو پھر وہی خواب دکھائی دیا اور یادہانی کروائی گئی کہ اے ابراہیم اپنی عزیز ترین شے کو قربان کرو۔ آپؑ نے اس موقع پر اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو آپؑ کو حضرت اسماعیلؑ نظر آئے تو آپؑ نے بیٹے سے تینوں راتوں کے خواب کا ذکر کیا جس کے بارے میں قرآن حکیم میں بھی ذکر ہوا ہے ۔ پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس نے کہا۔ میر ے پیارے بیٹے ! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے قربان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا، والد محترم: جو حکم ہوا ہے اسے بجالائیے ، انشاء اﷲآپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے اس کو (باپ نے بیٹے )کروٹ کے بل گرا دیا۔ تو ہم نے آوازدی کہ اے ابراہیمؑ یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ بے شک ہم نیکی کرنے والے کو اسی طرح جزاد یتے ہیں ۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ ‘‘(سورہ الصافات آیات نمبر 101-تا106)مفسرین کرام ان آیات کی تشریح بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسمعیلؑ کی عمر 13برس تھی ۔ پیغمبران کرام کے خواب بھی وحی الہٰی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس لئے بیٹے کی قربانی کے حکم کو وحی الہٰی جانتے ہوئے تسلیم کیا اور بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امرالہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے؟ اسی بیٹے کو اﷲ تعالیٰ مستقبل میں پیغمبر کے لئے چن چکا تھا چنانچہ وہ حکم الہٰی کے کیسے خلاف جاسکتے تھے ؟ پھر اس سے اگلی آیات میں ارشاد فرمایا: ’’اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا، ابراہیمؑ پر سلام ہو ہم نیکوں کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔‘‘(القران)یہ بڑا ذبیحہ ایک دنبہ تھا جو اﷲ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑکے ذریعے بھیجا ، پھر حضرت اسمعیلؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا ور پھر اسی سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دیا گیا۔ قربانی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ لیکن امت مسلمہ ہر سال جو قربانی کرتی ہے، یہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمعیل ؑ کی یاد گار ہے۔ حضرت زیدبن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر صحابہ کرام نے عرض کیا’’یارسولؐ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ رسول اکرمؐ نے فرمایا‘‘یہ تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سنت ہے‘‘صحابہ ؓ نے عرض کیا، اس میں ہمارے لئے کیا اجر ہے؟ حضورؐ نے فرمایا قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ایام قربانی میں قربانی ایک ایسی نیکی ہے جس کا کوئی اور بدل نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکر مؐ نے فرمایا’’قربانی (10تا12ذی الحجہ)میں انسان کا کوئی بھی عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہو گا اور بلاشیہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مرتبہ قبولیت پالیتا ہے۔ تو (اے مومنو)خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘۔۔۔۔محمد ‏جیلانی ‏نعیمی

قربانی کی فضیلت و اہمیت۔۔۔۔

محمد جیلانی نعیمی
قربانی کا فریضہ عید الاضحی کے دن حضرت ابراہیم ؑ کی اس عظیم ترین اطاعت خدا وندی کی مثال کی یاد گار کے طور پر ادا کیا جاتا ہے جس کے تحت خلیل اﷲ (اﷲ کے دوست) لقب پانے والے اس حق و صداقت کے علمبر دار پیغمبر ؑ نے اپنی ہزاروں دعائوں اور تمنائوں کے بعد پیدا ہونے والے پیارے بیٹے کو حکم خداوندی سے اﷲ کی راہ میں قربان کرنے کا ارداہ کر لیا تھا۔

قربانی کا مطلب ہے اﷲ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنا جب کہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حلال جانور کو اﷲ کی راہ میں قربان کرنا یا ذبح کرنا ہے۔یہ خاص وقت ١٠ ذی الحج کی صبح یعنی اشراق سے شروع ہوتا ہے اور ١٢ ذی الحج کی عصر تک رہتا ہے۔ نماز عید سے قبل قربانی نہیں ہوتی ۔ اس کیلئے افضل تاریخ ١٠ ذی الحج ہی ہے۔ عازمین حج مکہ مکرمہ میں یہ قربانی نہیں کرتے کیونکہ ان پر عید الاضحی کی نماز نہیں ہے وہ حج کے دیگر مناسک میں مصروف ہوتے ہیں وہ بال کٹوانے کے بعد جو قربانی کرتے ہیں وہ حج کا ’’دم شکر‘‘ کہلاتا ہے۔ یہ قربانی ’’حج تمتع یا حج قران‘‘کے لوگ ادا کرتے ہیں۔ دین اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب میں بھی قربانی کا تصور ملتا ہے جسے عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ یہود کی کتاب میں کثرت سے قربانی کا ذکر ملتا ہے اور اس کے اتنے تفصیلی احکامات لکھے گئے ہیں کہ کسی اور عبادت کے اتنے احکام نہیں ملتے ۔ ان قربانیوں میں سوختی قربانی ، گناہ کی قربانی اور اﷲ کی رحمت کو متوجہ کرنے کیلئے قربانی ہے۔ عید فصح کے سات دن کی قربانی کاخاص طورپر ذکر ملتا ہے ۔ عیسائیوں کے مذہب کی تو بنیادہی قربانی پر ہے ان کے نزدیک قربانی ہی اصل ذریعہ نجات ہے۔

عید الاضحی کی قربانی اصل میں اس واقعہ عظیم کی یاد کو تازہ کرتی ہے جو حضرت ابراہیمؑ سے واقع ہوا یعنی خواب میںفرزند عزیز حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرتے دیکھا تو سچ مچ انہیں قربانی کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ہماری مختلف مذہبی کتب میں حضرت ابراہیمؑ کے اس خواب کا ذکرآیا ہے جو کہ قربانی سے متعلق ہے۔ حضرت ابراہیم ؑنے یہ خواب مسلسل تین راتوں تک دیکھا تھا۔ پہلی رات یعنی آٹھ ذی الحج جسے شرعی اصطلاح میں ’’یوم الترویہ‘‘کہا جاتا ہے ۔ لغت میں تردید کے معنی ’’سیراب کرنا‘‘پانی فراہم کرنا،  چونکہ
 لوگ اس دن اپنے اونٹوں کو پانی پلاتے تھے۔ جیساکہ صحیح بخاری میں ترویہ کے معنی پانی پلانا آیاہے بعض اہل زبان نے ’’ترویہ‘‘کورویت سے لیا ہے اس لئے ’’دیکھنے کے ‘‘ معنی میں لیا ہے۔حضرت ابراہیم ؑنے بھی چونکہ خواب دیکھا تھا اس لئے دیکھنے کے معنوں میں ترویہ لیا۔ اس کی ایک ترجہیہ یہ بھی لکھی ہے کہ اس دن عازمین حج نماز ظہر کے بعد احرام باندھ کر منی کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور زادراہ کی خاطر پانی بھی ساتھ رکھتے ہیں ایک اور جگہ اس کے معنی’’ سوچ کا دن‘‘ لکھتے ہیں کیونکہ رات کے خواب کے بعد دن میں اس کے تعبیر کے بارے میں سوچا تھا اس لئے اس دن کا نام ’’یوم الترویہ‘‘ پڑ گیا۔ اس دن کا تعلق چونکہ ایام حج سے بھی ہے اس لئے مختلف کتابوں میں جو روایتیں ملتی ہیں ان سب کو اس مضمون میں یکجا کر دیا گیا ہے، اسی طرح عرضہ کو بھی معافی کے ساتھ شامل کیا ہے تاکہ قارئین کو تاریخ اور مقام سے اچھی طرح واقفیت ہو جائے۔
حضرات ابراہیم ؑنے خواب دیکھا جس میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنی عزیز ترین شے ہماری راہ میں قربان کرو۔ صبح اٹھ کر آپؑ نے سوچا کہ کیا چیز قربان کی جائے کہ جس سے منشائے ایزدی پوری ہو جائے۔ آپؑ نے سوسرخ اونٹ قربان کر دیئے ۔ دوسری رات پھر وہی خواب آیا۔ چنانچہ آپؑ نے پھر ایسا ہی کیا۔ واضح ہوکہ حجاز کی سرزمین پر سرخ اونٹ شروع ہی سے بڑا قیمتی رہا ہے جسے صرف چند مخصوص افراد استعمال کرتے ہیں کیونکہ وہ عام آدمی کی قیمت خرید سے باہر ہوتا ہے۔ اس دوسرے دن آپؑ نے جو قربانی پیش کی وہ ’’یوم عرفہ‘‘ تھا جس کے معنی ’’پہچاننے‘کے ہیں۔
عر فہ نوذی الحج کا دن ہوتا ہے اسی دن تمام عازمین حج عرفات کے میدان میں آتے ہیں جو حج کارکن اعظم ہے، یہاں کی حاضری خواہ چند ساعتوں کیلئے ہی سہی ، ضروری ہے ورنہ حج نہیں ہوتا۔ اس دن عازمین حج اپنے آپ کو مجرموں کی طرح رب کائنات کے حضور پیش کر کے اپنے گناہوں کا اعتراف بر ملا کرتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے چونکہ عرفہ والی رات کو بھی یہ خواب دیکھا تھا اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپؑ نے اپنے پہلے دن والے خواب کو پہچان لیا تھا کہ یہ وہی خواب ہے جو کل دیکھا تھا۔ اسی دن فجر کی نماز سے تیر ھویں کی عصر تک تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد خواتین و خضرات پر چاہے وہ مقیم ہو یا مسافر ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے۔

تیسری رات آپؑ کو پھر وہی خواب دکھائی دیا اور یادہانی کروائی گئی کہ اے ابراہیم اپنی عزیز ترین شے کو قربان کرو۔ آپؑ نے اس موقع پر اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو آپؑ کو حضرت اسماعیلؑ نظر آئے تو آپؑ نے بیٹے سے تینوں راتوں کے خواب کا ذکر کیا جس کے بارے میں قرآن حکیم میں بھی ذکر ہوا ہے ۔ پھر جب وہ بچہ اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے تو اس نے کہا۔ میر ے پیارے بیٹے ! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے قربان کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا، والد محترم: جو حکم ہوا ہے اسے بجالائیے ، انشاء اﷲآپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے اس کو (باپ نے بیٹے )کروٹ کے بل گرا دیا۔ تو ہم نے آوازدی کہ اے ابراہیمؑ یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ۔ بے شک ہم نیکی کرنے والے کو اسی طرح جزاد یتے ہیں ۔ درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ ‘‘(سورہ الصافات آیات نمبر 101-تا106)
مفسرین کرام ان آیات کی تشریح بیان کرتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسمعیلؑ کی عمر 13برس تھی ۔ پیغمبران کرام کے خواب بھی وحی الہٰی کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس لئے بیٹے کی قربانی کے حکم کو وحی الہٰی جانتے ہوئے تسلیم کیا اور بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امرالہٰی کے لئے کس حد تک تیار ہے؟ اسی بیٹے کو اﷲ تعالیٰ مستقبل میں پیغمبر کے لئے چن چکا تھا چنانچہ وہ حکم الہٰی کے کیسے خلاف جاسکتے تھے ؟ پھر اس سے اگلی آیات میں ارشاد فرمایا: ’’اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا اور ہم نے اس کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا، ابراہیمؑ پر سلام ہو ہم نیکوں کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ بے شک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھے۔‘‘(القران)

یہ بڑا ذبیحہ ایک دنبہ تھا جو اﷲ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل ؑکے ذریعے بھیجا ، پھر حضرت اسمعیلؑ کی جگہ اسے ذبح کیا گیا ور پھر اسی سنت ابراہیمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کا ایک ذریعہ اور عید الاضحی کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دیا گیا۔ قربانی کی تاریخ بھی اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ لیکن امت مسلمہ ہر سال جو قربانی کرتی ہے، یہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمعیل ؑ کی یاد گار ہے۔ حضرت زیدبن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر صحابہ کرام نے عرض کیا’’یارسولؐ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ رسول اکرمؐ نے فرمایا‘‘یہ تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سنت ہے‘‘صحابہ ؓ نے عرض کیا، اس میں ہمارے لئے کیا اجر ہے؟ حضورؐ نے فرمایا قربانی کے جانور کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔

ایام قربانی میں قربانی ایک ایسی نیکی ہے جس کا کوئی اور بدل نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکر مؐ نے فرمایا’’قربانی (10تا12ذی الحجہ)میں انسان کا کوئی بھی عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قیامت کے روز قربانی کا یہ جانور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں ، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہو گا اور بلاشیہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مرتبہ قبولیت پالیتا ہے۔ تو (اے مومنو)خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔‘‘۔۔۔۔

محمد جیلانی نعیمی

Comments

Popular posts from this blog

کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں

جشن جمہوریہ

سرسوں کا پھول اور ساگ