بابری مسجد کی پکار

بابری مسجد کی پکار

محمد جیلانی نعیمی 

یوں تو بہت زمانے سے آتا ہے دسمبر کا مہینہ اور گذر جاتا ہے دسمبر کا مہینہ اور جب سے عیسوی سال کے ماہ میں دسمبر کو ترتیب دیا گیا ہے تب سے ہر سال دسمبر کے مہینے میں 6 تاریخ بھی آتی ہے یعنی 6 دسمبر کا دن آتا تھا اور آتا ہے اور آتا رہے گا مگر 1992 میں جب دسمبر کا مہینہ آیا تو ہمارے وطن عزیز کی فضا کچھ ایسی تبدیل ہونا شروع ہوئی کہ 6 دسمبر کو ساڑھے چار سو سال پرانی ایک مسجد کو ڈھا دیا گیا جسے بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے جو اجودھیا میں واقع تھی اس دن پورے ملک کو فرقہ پرستی کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں کتنی بستیاں جل گئیں، کتنی گودیاں اجڑ گئیں پورے ملک میں عجیب و غریب ماحول تھا لوگ سہمے ہوئے تھے دوست دوست سے ڈر رہا تھا، پڑوسی پڑوسی سے ڈر رہا تھا مختلف مقامات پر فسادات بھی پھوٹ پڑے سفر کرنا انتہائی دشوار کن تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک سجدہ گاہ کو فرقہ پرستوں نے شہید کردیا لیکن جب


6 دسمبر آتا ہے تو بابری مسجد کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور جو مناظر ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا وہ آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے –
بابری مسجد کا مسلہ 1949 میں پیدا ہوا کانگریس کے دور حکومت میں پیدا ہوا جواہر لال نہرو وزیراعظم تھے اگر وہ چاہے ہوتے تو مسلہ حل ہوگیا ہوتا لیکن انہوں نے اس معاملے کو سلجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور مسجد میں تالا لگا دیا گیا، نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی گئی اس طرح مسلمانوں کی دلآزاری کی گئی اور مسلمان بابری مسجد میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو گئے لیکن
جب بھی 6 دسمبر آتا ہے چہرے اداس ہو جاتے ہیں حکومت کی ناانصافی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور زخم ہرا ہوجاتاہے جب بابری مسجد کی اینٹیں اکھاڑی جارہی تھیں پھاوڑا چلایا جارہا تھا تو مجھے یقین ہے کہ بابری مسجد یہی پکارتی رہی ہوگی کہ دیگر مساجد کو ویران نہ چھوڑنا بلکہ سجدوں سے آباد رکھنا جیسے جمعہ ادا کرتے ہو ویسے ہی نماز پنجگانہ ادا کرنا تاکہ کسی فرقہ پرست کی نگاہ تمہاری مسجد کی طرف نہ اٹھے ،، ہر سال 6 دسمبر آتا ہے اور گذرجاتا ہے اور یہ پیغام دے جاتا ہے کہ اے مسلمانوں مجھے بھول نہ جانا کہ میرے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہوئی ہے میرے قاتلوں کو بھی بری کردیا گیا اور مجھے یاد رکھنا میں مسجد ہوں اسلام کا قلعہ ہوں، تبلیغ اسلام کا مرکز ہوں اور میں خطبۂ جمعہ کی شکل میں اسلامی ذرائع ابلاغ ہوں یہی میری پہچان ہے اور یہی میرا پیغام ہے اس پیغام کو عام کرو اور اس پیغام پر عمل پیرا ہوجاؤ تا کہ کل میدان محشر میں میں تمہارے حق میں گواہی دے سکوں اور تم رب ذوالجلال کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکو-

Comments

Popular posts from this blog

کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں

جشن جمہوریہ

سرسوں کا پھول اور ساگ