بابری مسجد کی پکار
بابری مسجد کی پکار
6 دسمبر آتا ہے تو بابری مسجد کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور جو مناظر ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا وہ آنکھوں میں گھومنے لگتا ہے –
بابری مسجد کا مسلہ 1949 میں پیدا ہوا کانگریس کے دور حکومت میں پیدا ہوا جواہر لال نہرو وزیراعظم تھے اگر وہ چاہے ہوتے تو مسلہ حل ہوگیا ہوتا لیکن انہوں نے اس معاملے کو سلجھانے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور مسجد میں تالا لگا دیا گیا، نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی گئی اس طرح مسلمانوں کی دلآزاری کی گئی اور مسلمان بابری مسجد میں نماز ادا کرنے سے محروم ہو گئے لیکن
جب بھی 6 دسمبر آتا ہے چہرے اداس ہو جاتے ہیں حکومت کی ناانصافی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور زخم ہرا ہوجاتاہے جب بابری مسجد کی اینٹیں اکھاڑی جارہی تھیں پھاوڑا چلایا جارہا تھا تو مجھے یقین ہے کہ بابری مسجد یہی پکارتی رہی ہوگی کہ دیگر مساجد کو ویران نہ چھوڑنا بلکہ سجدوں سے آباد رکھنا جیسے جمعہ ادا کرتے ہو ویسے ہی نماز پنجگانہ ادا کرنا تاکہ کسی فرقہ پرست کی نگاہ تمہاری مسجد کی طرف نہ اٹھے ،، ہر سال 6 دسمبر آتا ہے اور گذرجاتا ہے اور یہ پیغام دے جاتا ہے کہ اے مسلمانوں مجھے بھول نہ جانا کہ میرے ساتھ کتنی بڑی ناانصافی ہوئی ہے میرے قاتلوں کو بھی بری کردیا گیا اور مجھے یاد رکھنا میں مسجد ہوں اسلام کا قلعہ ہوں، تبلیغ اسلام کا مرکز ہوں اور میں خطبۂ جمعہ کی شکل میں اسلامی ذرائع ابلاغ ہوں یہی میری پہچان ہے اور یہی میرا پیغام ہے اس پیغام کو عام کرو اور اس پیغام پر عمل پیرا ہوجاؤ تا کہ کل میدان محشر میں میں تمہارے حق میں گواہی دے سکوں اور تم رب ذوالجلال کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکو-
Comments
Post a Comment