موت اس کی ہے کرے جس پر زمانہ افسوس
موت اس کی ہے کرے جس پر زمانہ افسوس!😢
آہ۔۔۔۔ مولانا اسلام صاحب !
اس فانی دنیا کو فکر نانوتوی کے معتبر و موقر اور موقع شناس عالم و شارح ، اسلاف کے علمی و روحانی کارناموں کے امین و پاسبان، دار العلوم وقف دیوبند کے مایہ ناز استاذ حدیث، ادیب کامل، مولانا اسلام صاحب الوداع کہہ دیئے ہیں، آہستہ آہستہ علماء کرام کا گزرنا قیامت کے قریب ہونے کی نشانی ہے کیونکہ یہ بات ہر فرد جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے علم کو اٹھا لیں گے یعنی جن کے سینے کے اندر علم ہے جن کی روشنی سے ہم فیضیاب ہوتے ہیں، جن عالموں کو ہم اپنا قائد مانتے ہیں، جنہیں ہم رہبر کہتے ہیں، جن کے علم سے جاہلیت دور ہوتی ہے، اور جن کے ذریعے سے ہم اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتے ہیں، وہ اٹھا لیئے جائیں گے!
مولانا اسلام صاحبؒ کی وفات پر لاکھوں آنکھیں اشکبار ہیں، کروڑوں دلیں مغموم ہیں، ہر کسی کی زبان پر بس یہی ہے کہ لو نانوتوی کے چمن کا ایک اور پھول مرجھا گیا، ۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا اسلام صاحب رحمۃ اللہ علیہ وطنی نسبت
جھارکھنڈ سے ہے
لیکن آپ دیوبند میں ہی قیام پزیر ہوگئے تھے
، حضرت مولانا اسلام صاحب قاسمی دار العلوم وقف دیوبند کے مقبول ترین استاذِ حدیث تھے آپ نے دارالعلوم دیوبند سے 1971 میں دورہ حدیث شریف کیا اور علامہ فخر الدین مرادآبادی قدس سرہ سے بخاری شریف پڑھنے کا شرف حاصل ہواـ دورہ کے بعد ادب عربی، عربی و اردو خوش نویسی اور افتا کی سندات حاصل کیا پھر 1976 میں دیوبند سے شائع ہونے والے ماہانہ عربی مجلہ الداعی کے اجرا کے موقع پر عربی زبان و ادب کے ممتاز عالم دین اور احاطہ دیوبند میں عربی کو زندگی بخشنے والے مولانا وحید الزماں کیرانوی قدس سرہ نے معاون مدیر منتخب کیا پھر ١٩٨٢ء میں تقسیم دارالعلوم کے بعد دارالعلوم وقف دیوبند سے وابستہ ہوئے اور تدریسی فرائض انجام دینے شروع کیے جس کا مبارک سلسلہ جاری تھا ـ اس چالس سالہ مدت کے دوران آپ کو ادب و فقہ و اصول کی کتابوں کے علاوہ دورہ حدیث کی تقریبا تمام اعلی کتابیں پڑھانے کا موقع ملا اور فی الحال حدیث پاک کی اہم کتابیں بڑے حسن و خوبی سے پڑھا رہے تھے
مولانا کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ آپ عالی سند کے حامل تھے محدث میں ـ علامہ فخر الدین مرادآبادی قدس سرہ، حکیم الاسلام مولانا قاری طیب اور علامہ عبدالفتاح ابوغدہ جیسے مشاہیر علما سے روایت حدیث کی اجازت ہےـ یہی وجہ ہے کہ دور دراز سے طالبین علم حدیث آپ کے حضور حاضر ہوکر اجازت حدیث حاصل کرتے تھے ـ آپ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کے بھی جامع ہیں ـ پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہایٔ اسکول پھر جامعہ اردو علی گڑھ سے ادب ،کامل اور آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی آپ تصنیف تالیف میں خاص ملکہ حاصل تھا ،علمی دنیا میں آپ کی تحریروں اور کتابوں کو بیحد پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اب تک کل سترہ کتابیں منظر عام پر آکر مقبولیت حاصل کر چکی ہے ،،(1) دارالعلوم دیوبند کی ایک صدی کا علمی سفر نامہ (2) مقالات حکیم الاسلام (3) ترجمہ مفید الطالبین (4) ضمیمہ المنجد اردو ،عربی (5) القراء ۃ الراشدہ ترجمہ اردو ،تین حصے (6) جدید عربی میں خط لکھیے (7) جامع الفضاءل شرح شمائل ترمذی (8) ازمتہ الخلیج عربی (9) خلیجی بحران اور صدام حسین (10) منہاج البرار شرح اردو مشکاۃ الآثار (11) دارالعلوم دیوبند اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب (12) درخشان ستارے (13) رمضان المبارک فضائل و مسائل (14) زکاۃ و صدقات اہمیت وفوائد (15) دارالعلوم دیوبند (16) خانوادہ قاسمی (17) متعلقات قرآن اور تفاسیر
مختصاحب ایک جانب دار العلوم دیوبند میں موجود تشنہ علم کو سیراب کر رہے تھے اور دوسری جانب جو دار العلوم دیوبند سے دور تھے، ان کی تشنگی کے لئے قلم کو حرکت دیتے ہوئے کتابیں تصنیف کر رہے تھے۔۔۔۔
ہم ہمیشہ ان کی خدمات کے معترف رہیں گے، ان کی خدمات کو فراموش کرنا ممکن نہیں!
اللہ تعالیٰ مولانا کو غریق رحمت کرے، جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے، ہمیں نعم البدل عطا فرمائے آمین ثم آمین
Comments
Post a Comment