جشنِ میلاد النبی ﷺ اور آج کا مسلمان

تحریر ۔۔ محمد جیلانی نعیمی 

ربیع الاول کا مہینہ اہلِ ایمان کے دلوں کے لیے خوشی اور غم کا سنگم ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جب کائنات میں رحمتوں کا نزول ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، خاتم النبیین ﷺ کو دنیا میں بھیجا۔ یہ دن انسانیت کی قسمت بدلنے کا دن تھا۔ اندھیروں میں ڈوبی دنیا کو روشنی ملی، ظلم کے بوجھ تلے دبے انسان کو آزادی ملی، اور بگڑی ہوئی انسانیت کو نئی زندگی ملی۔ لیکن اسی مہینے میں وہ لمحہ بھی آیا جب وہی رحمتِ عالم ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ ایک طرف ولادت کی خوشبو دلوں کو معطر کرتی ہے تو دوسری طرف وصال کا غم روح کو لرزا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مہینہ جتنا خوشی کا ہے اتنا ہی غم کا بھی ہے۔

میلاد کا مقصد محض چراغاں کرنا، جلوس نکالنا یا نعتیں پڑھ لینا نہیں۔ یہ سب اظہارِ محبت کے طریقے ہیں، لیکن اصل مقصد یہ ہے کہ ہم حضور ﷺ کی سیرت کو یاد کریں اور اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے مطابق ڈھالیں۔ قرآن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے:

"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"

(یقیناً رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔)

ولادت کی خوشی اور وصال کا غم

جب ہم میلاد مناتے ہیں تو دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی سب سے بڑی نعمت عطا کی۔ لیکن جیسے ہی یہ خیال آتا ہے کہ اسی ماہِ مبارک میں وہ نعمت ہم سے جدا بھی ہو گئی، دل لرز جاتا ہے۔ آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ امت کی یتیمی کا وہ غم آج بھی دلوں کو تڑپاتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خوشی اور غم ایک ساتھ گلے مل رہے ہوں۔ یہ حقیقت ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اگر ہم واقعی حضور ﷺ کے عاشق ہیں تو ہمیں ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں زندہ کرنا ہوگا

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا پیغام

حضور ﷺ کی زندگی سراپا روشنی ہے:

آپ ﷺ نے بتایا کہ اصل عظمت نہ دولت میں ہے، نہ طاقت میں، بلکہ سچائی اور تقویٰ میں ہے۔

آپ ﷺ نے عدل قائم کیا اور دشمن بھی آپ کو "امین" کہنے پر مجبور ہو گئے۔

آپ ﷺ نے یتیموں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے دلوں کو سکون دیا۔

آپ ﷺ نے علم کو زندگی کا زیور بنایا اور جہالت کو زوال کی جڑ بتایا۔

آپ ﷺ نے امت کو اتحاد اور بھائی چارے کا درس دیا اور فرمایا کہ "تم سب ایک جسم کی مانند ہو۔"

آج کا مسلمان

افسوس! آج ہم میلاد مناتے ہیں مگر اس کی اصل روح سے دور ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے سچائی کو اپنا شعار بنایا، اور ہم جھوٹ اور فریب میں مبتلا ہیں۔

آپ ﷺ نے اخوت و محبت کو عام کیا، اور ہم نفرت و فرقہ واریت میں بٹ گئے ہیں۔

آپ ﷺ نے علم کو روشنی بنایا، اور ہم جہالت میں ڈوب گئے ہیں۔

آپ ﷺ نے عدل قائم کیا، اور ہم ظلم و ناانصافی کے عادی ہو گئے ہیں۔

ہمارا فریضہ

اگر واقعی ہم میلاد منانے والے ہیں تو ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ:

1. ہم اپنے اخلاق کو حضور ﷺ کے اخلاق سے سنواریں۔

2. ہم اپنی معیشت کو دیانت و انصاف پر قائم کریں۔

3. ہم اپنی خوشیوں کو یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ بانٹیں۔

4. ہم اپنی تعلیم و تربیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں استوار کریں۔

5. ہم فرقہ واریت کو چھوڑ کر اتحاد اور بھائی چارے کو اپنائیں۔

ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی سب سے بڑی نعمت دی، اور اسی مہینے ہم اس نعمت کے سایے سے محروم بھی ہوئے۔ یہ خوشی اور غم کا امتزاج ہمارے دلوں کو ہلا دیتا ہے۔ یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی حضور ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دی ہے؟ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو ہماری ذلت عزت میں بدل جائے گی، ہماری کمزوری طاقت میں، اور ہماری تاریکی روشنی میں ڈھل جائے گی۔

اے کاش! آج کا مسلمان میلاد کی حقیقت کو سمجھ لے، اپنی زندگی کو حضور ﷺ کے نقشِ قدم پر چلا لے، اور امت دوبارہ وہی شان حاصل کر لے جو نبی کریم ﷺ کے دور میں تھی۔ یہی حقیقی جشنِ میلاد ہے، اور یہی وصالِ نبی ﷺ کا سبق ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کتابیں وقت کے دھارے میں سب سے زیادہ باقی رہنے والے آثار ہیں

جشن جمہوریہ

سرسوں کا پھول اور ساگ